ابنا: اس سلسلےمیں تحریک حماس نے فلسطینی انتظامیہ اور صہیونی حکام کےدرمیان ہونےوالی ملاقات کو لاحاصل اور وقت کاضیاع قراردیاہے۔پروگرام کےمطابق منگل کےدن فلسطینی اوراسرائیلی نمائندوں اور چارفریقی کمیٹی جو امریکہ ، یورپی یونین روس اوراقوام متحدہ سےتشکیل دی گئی ہے کےنمائندوں نےاردن کےدارالحکومت امان ميں ملاقات کی اور سازبازمذاکرات کےبارےمیں گفتگوکی ۔یہ گذشتہ ڈیڑہ برس سےبند پڑےسازبازمذاکرات کےبعد فلسطینی اور صہیونی فریقوں کےدرمیان پہلی ملاقات ہے۔
فلسطینی انتظامیہ اور صہیونی ریاست کےدرمیان سازبازمذاکرات کودوبارہ زندہ کرنےکانیاسلسلہ ایسےعالم میں شروع کیاجارہاہے کہ صیہونی حکومت کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کےخلاف اس کےتشددآمیزاقدامات جاری رہنےکی وجہ سےبند ہوگیاتھا۔ اعداد وشمارکےمطابق فلسطینی انتظامیہ نے صہیونی ریاست کےساتھ مذاکرات شروع کرنےکافیصلہ گذشتہ ڈیڑہ برس کےدوران صہیونی ریاست کےجرائم اور صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کاسلسلہ جاری رہنےکےباوجود شروع کیاہےاس صورت حال میں صہیونی ریاست کےساتھ مذاکرات جاری رکھنےسےاس کی گستاخیاں مزید بڑہ جائيں گی۔
اردن کےدارالحکومت امان میں صہیونی ریاست اورفلسطینی انتظامیہ کےدرمیان مذاکرات نہ صرف لاحاصل ہیں بلکہ اس کامقصد صہیونی ریاست کوبیت المقدس کویہودیت کارنگ دینا، فلسطینیوں کی زمینوں پرمزیدقبضہ کرنا اور جارحیتوں کاسلسلہ جاری رکھنے کےلئےمزید موقع دیناہے۔ صہیونی ریاست سازبازمذاکرات کواپنی توسیع پسندانہ اورغاصبانہ پالیسیوں کوآگےبڑھانے اورفلسطینوں کواسےتسلیم کرنےپرمجبورکرنےکےلئے ایک بہترین موقع کی نظرسےدیکھتی ہے ۔ اس کےساتھ ہی صہیونی ریاست سازبازمذاکرات کوفلسطینیوں کےدرمیان نفوذ پیداکرنےکابھی اچھاموقع سمجھتی ہے تاکہ معدودےچند فلسطینی گروہوں کی مدد سےجواس کےساتھ سازبازمذاکرات پرتاکیدکرتےہیں ، اپنی تفرقہ ڈالنےوالی پالیسیوں کو آگےبڑھائے جواس کےساتھ مذاکرات پرتاکیدکرتےہیں۔اسی بناپر ٹھیک اس وقت جب گذشتہ ہفتےفلسیطینیوں کےقومی آشتی کےلئےہونےوالےمذاکرات میں قابل توجہ پیش رفت ہورہی تھی ، صہیونی ریاست اور اس کےحامیوں نےایک ساتھ مل کےمختلف طریقوں سےقومی آشتی مذاکرات کوناکام بنانےکی کوششیں شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب صہیونی ریاست اوراس کےحامیوں کےاقدامات کانیاسلسلہ ایسےحالات میں شروع ہواہےکہ بہت سےعرب ممالک میں استقامت کومضبوطی حاصل ہوئی ہے اورمغرب کی حامی اور صہیونی ریاست کےساتھ معاہدہ کرنےوالی حکومتوں کاشیرازہ بکھررہاہے یابکھرنےوالاہے۔مشرق وسطی کےعلاقےمیں رونماہونےوالی تبدیلیوں سےپتہ چلتاہے کہ علاقےمیں صہیونی ریاست کی پوزیشن مزیدکمزور ہوئي ہے ۔اور اس چیزنے صہیونی ریاست اوراس کے حامیوں کےدرمیان گہری تشویش پیداکردی ہےاوراس بناپروہ عوام کودھوکہ میں رکھ کرسازبازمذاکرات کوزندہ کرکےفلسطینی عوام کی استقامت اورعلاقےمیں صہیونیت مخالف جذبات کمزورکرنےکی کوشش کررہےہيں۔.......
/169